عدالت میں کیس ہارنے کے بعد متولیان نے خود مسجد منتقل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی مگرمیونسپل کارپوریشن نے علی الصباح انہدامی کارروائی کی۔ ایک مندر کا بھی انہدام۔
انہدامی دستہ مسجد کو منہدم کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن (ایم بی ایم سی )نے پیرکی علی الصباح تقریباً ۵ ؍بجے بھائندر مشرق کے گولڈن نیسٹ سرکل پر واقع آزاد نگر کی ۲۵ سال پرانی نوری مسجد کو منہدم کردیا۔ میونسپل کارپوریشن کے مطابق یہ تعمیر غیر قانونی تھی۔ اسی کارروائی میں قریب واقع اومکاریشور مہادیو مندر کو بھی منہدم کیا گیا۔ کسی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات تھی۔ مسجد سے متعلق مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا اور مسجد کمیٹی کے ذرائع کے مطابق کمیٹی یہ کیس ہار گئی تھی۔ مقامی قیادت کا دعویٰ ہے کہ متولیان نے انتظامیہ کو خود باعزت طریقے سے مسجد منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی۔
اتوار اور پیر کی درمیانی رات تقریباً ۱۲ ؍سے ساڑھے ۱۲؍ بجے کارپوریشن کا دستہ بھاری پولیس بندوبست کے ساتھ آزاد نگر پہنچا تو خبر پھیلتے ہی ہزاروں افراد مسجد کے تحفظ کیلئے جمع ہو گئے۔ صورتحال کشیدہ دیکھ کر نوری مسجد کے امام غلام سرور نے لاؤڈ اسپیکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیس عدالت میں ہارنے کے بعد مسجد ٹرسٹ نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر خود مسجد کو پروقار انداز میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے نعرے بازی اور قانون مخالف سرگرمی سے باز رہنے کی اپیل کی جس کے بعد مجمع پرامن طور پر منتشر ہو گیا۔
مقامی افراد کے مطابق عشاء کی نماز پرامن انداز میں ادا کی گئی تھی اور رات تقریباً ڈھائی بجے امام صاحب نے اعلان کیا تھا کہ مسلم معاشرہ خود مسجد کو ہٹا دے گا۔ سینئر لیڈرمظفر حسین کی رہائش گاہ پر اس سلسلے میں میٹنگ بھی ہوئی تھی۔ مقامی قیادت نے الزام عائد کیا کہ تعاون کی پیشکش کے باوجودمیونسپل کارپوریشن کا عملہ صبح ۵ ؍بجے ۲؍ جے سی بی اور ۲؍پوکلین مشینوں کے ساتھ پہنچا اور فجر کی نماز سے قبل مسجد اور مندر کو ملبے میں تبدیل کر دیا۔ فجر کے وقت پہنچنے والے نمازیوں کو وہاں صرف ملبہ ملا۔
مقامی لیڈروں اور دونوں برادریوں کے افراد نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امن برقرار رکھنے کیلئے انہوں نے انتظامیہ کا ساتھ دیا لیکن میونسپل کارپوریشن کی جلد بازی نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
کارپوریشن حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی عدالت کے فیصلے اور قانونی ضوابط کے تحت کی گئی۔ علاقے میں اس وقت امن ہے، تاہم احتیاط کے طور پر پولیس فورس تعینات ہے۔
آزاد سماج پارٹی کے رہنما اور بھیم آرمی کے ریاستی نائب صدر آصف منصوری نے انقلاب کو بتایا کہ یہ مسجد ۲۵؍ سال پرانی تھی مگر دستاویزات کے معاملے میں متولیان سے غفلت ہوئی ہے۔ اس مسجد کو تعمیر کرتے وقت زمین کے سودے کا نوٹری کیا گیا تھا مگر رجسٹریشن نہیں کیا گیا تھا۔ ۲؍ سال قبل ۲۰۲۴ ءمیں یہاں آزاد نگر میں بھیانک آگ لگی تھی اور اطراف کے سارے جھونپڑے خاکستر ہو گئے تھے مگر مسجد موجود تھی پھر یہ جگہ میونسپل کارپوریشن کے ترقیاتی منصوبوں میں ریزرویشن میں چلی گئی۔ ہمیں دو سال کی مہلت ملی تھی۔ ہم دستاویزات کو صحیح کرواتے مگر ٹرسٹیوں کی غفلت نے وہ موقع گنوادیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے مہاراشٹرمیں کئی مساجد انہدامی کارروائی کی زدمیں ہیں۔ ہمیں مساجد ومدارس اور اپنی عبادت گاہوں کے کاغذات فوری طور پر درست کرنے چاہئے۔
میونسپل کارپوریشن کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے میڈیا کو جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق ۸ ؍جون کو میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے ریزرویشن نمبر ۱۲۲ ؍پر دو غیر قانونی مذہبی مقامات کے تجاوزات کے خلاف بلدیاتی انتظامیہ کی جانب سے قانون کے مطابق انہدامی کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی سپریم کورٹ کی ہدایات کے تناظر میں غیر قانونی مذہبی مقامات کی تعمیرات کے حوالے سے حکومت ِ مہاراشٹر کی جانب سے جاری کردہ مورخہ ۵؍ مئی ۲۰۱۱ ء کے فیصلے کے رہنما خطوط کے تحت عمل میں لائی گئی۔ واضح رہے کہ ریزرویشن نمبر ۱۲۲ ؍ سماجی شجرکاری اور کھیل کے میدان کیلئے مختص تھا۔